اتوار 5 جولائی 2026 - 11:09
علمدار کی رخصتی؛ پرچمِ حق کا تسلسل

حوزہ/ آج افقِ انقلاب کا ایک درخشاں ستارہ، شہیدِ امت، ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ ہاتھ جو برسوں امت کے پرچم کو استقامت، بصیرت اور شجاعت کے ساتھ تھامے رہے، خاموش ہوگئے؛ مگر ان کے اٹھائے ہوئے علم کی رفعت آج بھی آسمان سے ہم کلام ہے۔

یادداشت: مولانا غلام رسول صابری

حوزہ نیوز ایجنسی|

آج افقِ انقلاب کا ایک درخشاں ستارہ، شہیدِ امت، ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ ہاتھ جو برسوں امت کے پرچم کو استقامت، بصیرت اور شجاعت کے ساتھ تھامے رہے، خاموش ہوگئے؛ مگر ان کے اٹھائے ہوئے علم کی رفعت آج بھی آسمان سے ہم کلام ہے۔

علمدار تو رخصت ہوگیا، لیکن اس کا پیغام زندہ ہے۔ وہ شہید ہوگیا، مگر اس کی للکار آج بھی اہلِ حق کے دلوں میں گونج رہی ہے۔ دشمن نے گمان کیا کہ وہ ایک شخصیت کو مٹا دے گا، مگر وہ یہ بھول گیا کہ نظریات بارود سے نہیں جلتے اور ایمان میزائلوں سے شکست نہیں کھاتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ حق کے قافلے کا ہر علمبردار اپنی جان قربان کرسکتا ہے، مگر عزت و وقار کا سودا نہیں کرتا۔ ظلم کی تلوار جسموں کو زخمی کرسکتی ہے، انہیں ٹکڑے ٹکڑے بھی کرسکتی ہے، لیکن حق کی پیشانی کو جھکا نہیں سکتی۔ «لا يُبَايِعُ مِثْلُهُ» کا یہی پیغام کربلا سے ملا، یہی حسینی شعار ہے، اور یہی وہ درس ہے جسے ہر دور کے علمدار نے اپنے خون سے رقم کیا۔
اگر ایک علمدار رخصت ہوتا ہے تو ہزاروں ہاتھ اس علم کو سنبھالنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

شہادت اہلِ حق کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہوتی ہے۔ جس طرح میدانِ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اہلِ بیت و اصحاب نے جامِ شہادت نوش کیا، لیکن کربلا کے بعد امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے قیامِ حق کا نیا مرحلہ شروع کیا۔ انہوں نے یزید اور آلِ یزید کے چہروں سے نقاب اتار دی، انہیں تاریخ کے سامنے رسوا کیا، اور حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل کو پوری انسانیت پر آشکار کردیا۔

آج کے دور میں بھی شہیدِ امت نے اپنے کردار، استقامت اور بصیرت سے ظالم حکمرانوں کے چہروں کو بے نقاب کیا۔ اب ان کے فرزند نے بھی اسی مشن کو جاری رکھنے کا عہد کیا ہے اور اسی استقامت کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی جدوجہد کررہا ہے۔ خونِ شہید زمین پر نہیں گرتا، بلکہ قوموں کی رگوں میں حرارت، غیرت، بیداری اور حریت بن کر دوڑنے لگتا ہے۔

یہی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ علم کبھی زمین پر نہیں گرتا، بلکہ ایک امین ہاتھ سے دوسرے امین ہاتھ، ایک صالح ہاتھ سے دوسرے صالح ہاتھ میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے نئی قیادت مقدر فرمائی ہے تو یہ اسی امانتِ الٰہی کا تسلسل ہے۔ دعا ہے کہ یہ پرچم ہمیشہ حق، عدالت، عزت اور استقامت کی علامت بن کر بلند رہے، اور جس کے ہاتھوں میں بھی یہ ذمہ داری آئے، اللہ تعالیٰ اسے حکمت، بصیرت، شجاعت، اخلاص اور استقامت کے ساتھ اس امانت کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آج آنکھیں اشکبار ہیں، دل غمگین ہیں، مگر پیشانیاں سربلند ہیں؛ کیونکہ حق کے مسافر شکست نہیں کھاتے۔ وہ اپنی جان دے دیتے ہیں، مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتے۔ ایک علمدار کی رخصتی قافلے کے رک جانے کا نام نہیں، بلکہ نئے عزم، نئی ہمت اور نئی ذمہ داری کے ساتھ سفر کے آگے بڑھنے کا اعلان ہے۔

پروردگار! ہمیں بھی اپنے شہداء کے راستے پر استقامت، بصیرت، اخلاص اور وفاداری عطا فرما، تاکہ ہم بھی حق کے علم کو اسی عزت و وقار کے ساتھ آئندہ نسلوں تک پہنچا سکیں۔ اگر امت کی قیادت نئے ہاتھوں میں منتقل ہو تو اسے اپنے لطف و کرم سے ثابت قدم رکھ، اور اس کے ذریعے دینِ حق کی سربلندی، مظلوموں کی نصرت، اہلِ ایمان کی عزت اور امتِ مسلمہ کی وحدت کو دوام عطا فرما۔

علمدار رخصت ہوسکتے ہیں، مگر ان کے اٹھائے ہوئے پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوتے۔ افراد بدل جاتے ہیں، لیکن حق کا علم ہمیشہ بلند رہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کے محافظ ہر دور میں پیدا فرماتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha